اندھا اعتماد نہ کریں! زندگی کی 5 باتیں جو کاش پہلے پتا ہوتیں
میری عمر ابھی زیادہ نہیں ہے۔ لیکن الحمدللہ، میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اللہ نے مجھے چیزوں کو غور سے دیکھنے، سمجھنے اور ان سے سیکھنے کی صلاحیت دی۔ میں یہ نہیں کہتا کہ میں نے زندگی کی تمام حقیقتیں سمجھ لی ہیں، لیکن جو کچھ میں نے خود محسوس کیا، جو چیزیں میں نے اپنے اوپر آزمائیں اور جن سے میں نے کچھ سیکھا، وہ میں دوسروں کے ساتھ شیئر کرنا چاہتا ہوں۔
یہ پانچ باتیں کوئی حتمی اصول نہیں، بلکہ میری زندگی کے اب تک کے تجربات ہیں۔ ممکن ہے ہر شخص کا تجربہ مختلف ہو، لیکن شاید ان میں سے کوئی ایک بات کسی کے لیے واقعی فائدہ مند ثابت ہو جائے۔
1۔ کسی پر اندھا اعتماد مت کریں
زندگی میں سب سے پہلی بات جو میں نے سیکھی، وہ یہ ہے کہ کسی پر اندھا اعتماد نہیں کرنا چاہیے۔
کوئی انسان آپ سے ہنس کر بات کر لیتا ہے، اچھے الفاظ میں بات کرتا ہے، آپ کی مدد کر دیتا ہے یا مشکل وقت میں آپ کے ساتھ کھڑا ہو جاتا ہے تو ضروری نہیں کہ وہ لازماً آپ کا مخلص، خیرخواہ یا وفادار بھی ہو۔
اکثر ہم پہلی نظر میں ہی لوگوں کے بارے میں ایک رائے قائم کر لیتے ہیں۔ ہمیں لگتا ہے کہ یہ شخص بہت اچھا ہے، یہ میرے ساتھ مخلص ہے، یہ میرا دوست ہے اور یہ کبھی مجھے نقصان نہیں پہنچائے گا۔ لیکن حقیقت ہمیشہ پہلی ملاقات یا چند اچھی باتوں سے معلوم نہیں ہوتی۔
انسان کو وقت کے ساتھ دیکھنا پڑتا ہے۔ اس کے رویے کو سمجھنا پڑتا ہے، اسے مختلف حالات میں پرکھنا پڑتا ہے، تب کہیں جا کر اس کے بارے میں کوئی مضبوط رائے قائم کی جا سکتی ہے۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر انسان پر شک کیا جائے یا کسی پر اعتماد ہی نہ کیا جائے۔ نہیں۔ اعتماد ضرور کریں، لیکن اندھا اعتماد نہ کریں۔
کیونکہ اگر آپ کسی ایسے شخص پر مکمل اعتماد کر بیٹھیں جو حقیقت میں آپ کا مخلص نہیں، تو مستقبل میں یہی اعتماد آپ کے لیے بڑے نقصان کا سبب بن سکتا ہے۔
اس لیے میری نظر میں اعتماد ایک احساس نہیں، بلکہ وقت کے ساتھ ثابت ہونے والی چیز ہے۔
2۔ فوراً فیصلہ مت کریں
دوسری اہم بات جو میں نے اپنی زندگی سے سیکھی ہے وہ یہ ہے کہ فوراً فیصلہ نہیں کرنا چاہیے۔
زندگی میں بہت سے ایسے مواقع آتے ہیں جب ہمیں کسی نہ کسی فیصلے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کبھی کوئی ہمیں پریشرائز کر رہا ہوتا ہے، کبھی ہم غصے میں ہوتے ہیں، کبھی جذبات بہت زیادہ ہوتے ہیں اور کبھی صورتحال ہمیں فوری قدم اٹھانے پر مجبور کر رہی ہوتی ہے۔
لیکن ایسے وقت میں فوری فیصلہ لینا بعد میں نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔
خاص طور پر جب آپ غصے میں ہوں، جذباتی ہوں یا کسی کے دباؤ میں ہوں تو بہتر ہے کہ کچھ وقت رک جائیں۔ اپنے ذہن کو پرسکون کریں، صورتحال کو دوبارہ دیکھیں، سوچیں کہ اصل مسئلہ کیا ہے، اس کے نتائج کیا ہو سکتے ہیں اور پھر فیصلہ کریں۔
کیونکہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ہم کسی صورتحال میں فوری فیصلہ کر لیتے ہیں اور کچھ وقت گزرنے کے بعد جب ہمارا ذہن نارمل ہوتا ہے تو ہم سوچتے ہیں:
“یار، کاش میں نے یہ فیصلہ اس وقت نہ کیا ہوتا۔”
اسی لیے میں نے یہ سیکھا ہے کہ اگر کوئی فیصلہ زندگی بدلنے والا ہے تو اسے صرف چند منٹ کے جذبات کے حوالے نہیں کرنا چاہیے۔
تھوڑا وقت لیں۔ سوچیں۔ سمجھیں۔ پرکھیں۔ پھر فیصلہ کریں۔
ایک پرسکون ذہن سے کیا گیا فیصلہ اکثر اس فیصلے سے بہتر ہوتا ہے جو غصے، جذبات یا دباؤ میں لیا گیا ہو۔
3۔ ہر وقت دوسروں کے محتاج نہ بنیں
تیسری بات یہ ہے کہ ہر وقت دوسروں پر منحصر نہیں رہنا چاہیے۔
زندگی میں مدد لینا کوئی بری بات نہیں۔ انسان کو کبھی نہ کبھی کسی کی مدد کی ضرورت پڑتی ہے اور ایک دوسرے کا ساتھ دینا بھی زندگی کا حصہ ہے۔
لیکن اگر آپ کوئی کام خود کر سکتے ہیں، آپ میں صلاحیت ہے اور آپ خود وہ کام نمٹا سکتے ہیں، تو ہر بار کسی دوسرے شخص کو اپنے ساتھ لے جانے یا اس کی جان پہچان استعمال کرنے کی ضرورت نہیں۔
مثلاً آپ کو کوئی کام کروانا ہے اور آپ خود جا کر وہ کام کر سکتے ہیں، لیکن آپ یہ سوچتے ہیں کہ فلاں شخص کی وہاں جان پہچان ہے، وہ میرے ساتھ جائے گا تو میرا کام جلدی ہو جائے گا، تو ہر بار اس سہارے کی عادت ڈال لینا مناسب نہیں۔
کیونکہ جب انسان ہر وقت کسی دوسرے پر منحصر ہو جاتا ہے تو اس کی اپنی خودمختاری کم ہونے لگتی ہے۔
اور ایک اور خطرناک پہلو یہ ہے کہ اگر کوئی شخص جانتا ہو کہ آپ کسی کام کے لیے اس کے محتاج ہیں، تو وہ کبھی کبھی آپ کی اسی ضرورت کا غلط فائدہ بھی اٹھا سکتا ہے۔
اس لیے جہاں مدد ضروری ہو، ضرور مدد لیں، لیکن جہاں آپ اپنا کام خود کر سکتے ہیں وہاں اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا سیکھیں۔
میری نظر میں خود اپنے کام نمٹانے کی عادت انسان کو صرف مضبوط نہیں بناتی بلکہ اسے اندر سے زیادہ پُراعتماد بھی بناتی ہے۔
4۔ اپنے اہم منصوبے ہر کسی کو نہ بتائیں
چوتھی بات میری نظر میں بہت اہم ہے۔
زندگی میں آپ کچھ بننا چاہتے ہیں، کوئی کاروبار شروع کرنا چاہتے ہیں، کوئی نیا کام کرنا چاہتے ہیں، اپنا گھر بنانا چاہتے ہیں یا اپنی زندگی میں کوئی بڑا قدم اٹھانا چاہتے ہیں تو ضروری نہیں کہ آپ اپنا ہر منصوبہ ہر شخص کے ساتھ شیئر کریں۔
ہم اکثر اپنے جوش میں اپنی planning دوسروں کو بتانا شروع کر دیتے ہیں۔
“میں یہ کرنے والا ہوں۔”
“میں یہ کاروبار شروع کرنے والا ہوں۔”
“میں آگے یہ کرنے کا سوچ رہا ہوں۔”
لیکن ہر شخص آپ کی ترقی سے خوش ہو، یہ ضروری نہیں۔
کچھ لوگ آپ کی بات سن کر خوش ہوتے ہیں، کچھ صرف خاموش رہتے ہیں، اور کچھ ایسے بھی ہو سکتے ہیں جو آپ کی ترقی کو دیکھ کر حسد یا جلن محسوس کریں۔
اسی لیے میری رائے میں اپنی زندگی کے ہر اہم منصوبے کو ہر شخص کے سامنے بیان کرنے کے بجائے خاموشی سے کام کرنا بہتر ہے۔
اسلامی تعلیمات میں نظرِ بد کا تصور بھی موجود ہے، اس لیے انسان کو اپنی خوشیوں، نعمتوں اور کامیابیوں کے معاملے میں بھی حکمت اور احتیاط سے کام لینا چاہیے۔
اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ انسان ہر بات چھپاتا پھرے یا کسی سے مشورہ ہی نہ کرے۔ اگر کسی سمجھدار، مخلص اور متعلقہ شخص سے مشورے کی ضرورت ہو تو ضرور کریں۔
لیکن ایک بات یاد رکھیں:
ہر شخص کو اپنی planning بتانا ضروری نہیں ہے۔
کبھی کبھی خاموشی سے محنت کرنا اور نتیجہ سامنے لانا، اپنی planning سب کو بتانے سے کہیں زیادہ بہتر ہوتا ہے۔
5۔ ہر حال میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں
اور سب سے اہم بات۔
ہر حال میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے رہیں۔
اگر زندگی میں کامیابی ملی ہے تو اللہ کا شکر ادا کریں۔ اگر کوئی مقصد حاصل ہوا ہے تو اللہ کے سامنے جھکیں۔ نماز پڑھیں، نوافل پڑھیں اور اس ذات کا شکر ادا کریں جس نے آپ کو وہ نعمت عطا کی۔
ہم اکثر کامیابی کو اپنی محنت کا نتیجہ سمجھ لیتے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ محنت کرنے کی صلاحیت، صحت، مواقع، وقت اور کامیابی—یہ سب اللہ تعالیٰ کی عطا ہیں۔
اور اگر زندگی میں برا وقت آ جائے، کام نہ بن رہا ہو، حالات آپ کے مطابق نہ ہوں یا کوئی آزمائش سامنے آ جائے تو تب بھی اللہ تعالیٰ سے اپنا تعلق کمزور نہ کریں۔
یہی وہ وقت ہوتا ہے جب انسان کا اصل بھروسا سامنے آتا ہے۔
آسان وقت میں اللہ کا شکر ادا کرنا بھی ضروری ہے اور مشکل وقت میں اللہ پر بھروسا رکھنا بھی۔
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
“لَئِن شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ”
یعنی:
“اگر تم شکر کرو گے تو میں تمہیں ضرور اور زیادہ دوں گا۔”
(سورۃ ابراہیم، 14:7)
اس لیے حالات جیسے بھی ہوں، اللہ تعالیٰ کی شکرگزاری کو اپنی زندگی سے مت نکالیں۔
کامیابی میں شکر، مشکل میں صبر، اور ہر حال میں اللہ پر بھروسا—یہ انسان کو اندر سے مضبوط بناتا ہے۔
آخر میں
یہ پانچ باتیں میں نے کسی کتاب سے صرف پڑھ کر نہیں لکھیں۔ یہ وہ چیزیں ہیں جنہیں میں اپنی زندگی میں دیکھ رہا ہوں، محسوس کر رہا ہوں اور سیکھ رہا ہوں۔
میری عمر ابھی تقریباً 19 سال ہے، اس لیے میں یہ دعویٰ نہیں کرتا کہ میں زندگی کے تمام راز جانتا ہوں۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ میں خود ابھی سیکھنے کے مرحلے میں ہوں۔
لیکن الحمدللہ، میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اس نے مجھے اپنی زندگی کے تجربات سے سیکھنے کی صلاحیت دی۔ میری کوشش ہے کہ جو چیز میں خود سیکھوں، اسے اپنی زندگی پر بھی لاگو کروں اور اگر ممکن ہو تو کسی دوسرے انسان کے لیے بھی فائدہ مند بنا دوں۔
زندگی میں ہر انسان کے تجربات مختلف ہوتے ہیں۔ ممکن ہے کسی کو ان باتوں سے اتفاق ہو اور کسی کو نہ ہو۔ لیکن اگر ان پانچ باتوں میں سے ایک بات بھی کسی انسان کو اپنے کسی غلط فیصلے، غلط اعتماد، غیر ضروری انحصار یا کسی ایسے قدم سے بچا دے جس پر بعد میں اسے افسوس ہونا تھا، تو میرے لیے یہی اس تحریر کی سب سے بڑی کامیابی ہوگی۔
لوگوں کو پہچانیں، فیصلوں میں جلدی نہ کریں، اپنے کام خود کرنا سیکھیں، اپنی planning کو ہر شخص کے سامنے نہ رکھیں، اور سب سے بڑھ کر—ہر حال میں اللہ تعالیٰ کا شکر اور اس پر بھروسا قائم رکھیں۔
