سوشل میڈیا اور نوجوانوں کی ذہنی صحت: دوسروں کی Lifestyle دیکھ کر احساسِ کمتری کیوں ہوتی ہے؟
دوسروں کی Lifestyle دیکھ کر اپنی زندگی سے نفرت مت کرو
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
آج کا دور سوشل میڈیا کا دور ہے۔
ہر دوسرے انسان کے ہاتھ میں موبائل فون ہے اور تقریباً ہر نوجوان دن کا ایک بڑا حصہ سوشل میڈیا پر گزارتا ہے۔ Instagram، Facebook، TikTok اور دوسری ایپس پر ہمیں روزانہ ہزاروں تصویریں، ویڈیوز اور lifestyles دیکھنے کو ملتی ہیں۔ کسی کے ہاتھ میں iPhone ہوتا ہے، کوئی بڑی گاڑی کے ساتھ تصویر لگا رہا ہوتا ہے، کوئی لگژری گھر دکھا رہا ہوتا ہے اور کوئی اپنی perfect life سوشل میڈیا پر پیش کر رہا ہوتا ہے۔
لیکن مسئلہ وہاں سے شروع ہوتا ہے جب ایک نوجوان ان چیزوں کو اپنی زندگی کے ساتھ compare کرنا شروع کر دیتا ہے۔
میں خود ایک نوجوان ہوں، اس لیے میں اس چیز کو بہت اچھی طرح سمجھ سکتا ہوں۔ آج کل کے نوجوان emotionally اور mentally ہر چیز کو اتنی گہرائی سے سمجھنے کی عمر میں نہیں ہوتے۔ وہ جو کچھ سوشل میڈیا پر دیکھتے ہیں، اکثر اسے حقیقت سمجھ لیتے ہیں۔ حالانکہ حقیقت ہمیشہ وہ نہیں ہوتی جو ہمیں سکرین پر نظر آ رہی ہوتی ہے۔
ممکن ہے جس شخص نے iPhone پکڑ کر تصویر بنائی ہو، وہ فون اس کا اپنا ہی نہ ہو۔
ممکن ہے جس گاڑی کے ساتھ وہ تصویر لے رہا ہو، وہ گاڑی کسی اور کی ہو۔
اور اگر مان بھی لیا جائے کہ وہ سب کچھ واقعی اس کا اپنا ہے، تب بھی ہمیں صرف اس کی کامیابی نظر آتی ہے، اس کی struggle نہیں۔
ہمیں یہ نہیں معلوم ہوتا کہ اس نے کتنی محنت کی، کتنے سال struggle کیا، کتنی ناکامیاں برداشت کیں، کتنی قربانیاں دیں، تب جا کر وہ اس مقام تک پہنچا جہاں وہ ان چیزوں کو afford کر سکتا ہے۔
بہت سے لوگ آج جس مقام پر نظر آتے ہیں، وہاں پہنچنے کے لیے انہوں نے برسوں محنت کی ہوتی ہے۔ کئی راتیں بے سکونی میں گزاری ہوتی ہیں، کئی مرتبہ ناکامی دیکھی ہوتی ہے، کئی مواقع پر لوگوں کے طعنے برداشت کیے ہوتے ہیں۔ لیکن سوشل میڈیا ان تمام struggles کو hide کر دیتا ہے اور صرف final result سامنے لاتا ہے۔
لیکن ایک نوجوان جب یہ سب دیکھتا ہے تو اس کے دل میں comparison پیدا ہونا شروع ہو جاتا ہے۔
احساسِ کمتری — آج کے نوجوان کا خاموش مسئلہ
آج بہت سے نوجوان اندر ہی اندر احساسِ کمتری کا شکار ہو رہے ہیں۔
“اس کے پاس یہ سب کچھ ہے، میرے پاس کیوں نہیں؟”
“میرے والدین مجھے یہ چیزیں کیوں نہیں لے کر دیتے؟”
“میری زندگی اتنی simple کیوں ہے؟”
اور یہی سوچ آہستہ آہستہ ناشکری، بے سکونی اور self-hate میں تبدیل ہونا شروع ہو جاتی ہے۔
کئی نوجوان باہر سے بالکل نارمل نظر آتے ہیں، لیکن اندر سے وہ شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوتے ہیں۔ وہ خود کو دوسروں سے compare کرتے کرتے اپنی صلاحیتوں، اپنی شخصیت اور یہاں تک کہ اپنی زندگی سے بھی ناخوش ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ انہیں لگنے لگتا ہے کہ ان کی value صرف تب ہے جب ان کے پاس مہنگا موبائل، branded کپڑے یا luxury lifestyle ہو۔
بعض نوجوان اپنے دوستوں کو expensive lifestyle میں دیکھ کر خود کو کمتر سمجھنے لگتے ہیں۔ وہ یہ محسوس کرتے ہیں کہ شاید وہ دوسروں سے کم ہیں، حالانکہ حقیقت یہ نہیں ہوتی۔
اصل value اس کے کردار، اخلاق، سوچ اور محنت سے ہوتی ہے۔
ایک اچھا انسان وہ نہیں جس کے پاس سب سے زیادہ پیسہ ہو، بلکہ وہ ہے جس کا اخلاق اچھا ہو، جو دوسروں کی عزت کرے، اپنے والدین کی قدر کرے اور حلال طریقے سے زندگی گزارنے کی کوشش کرے۔ دنیا کی بہت سی قیمتی چیزیں پیسے سے نہیں خریدی جا سکتیں، جیسے سکون، عزت، خلوص اور اچھا کردار۔
سوشل میڈیا صرف Result دکھاتا ہے، Journey نہیں
یہ بات سمجھنا بہت ضروری ہے کہ سوشل میڈیا ہمیں صرف لوگوں کی highlight دکھاتا ہے، پوری زندگی نہیں۔
ہم کسی کی ایک خوبصورت تصویر دیکھتے ہیں، لیکن اس تصویر کے پیچھے کی struggle نہیں دیکھتے۔
ہم کسی کی کامیابی دیکھتے ہیں، لیکن وہ راتیں نہیں دیکھتے جب اس نے محنت کی، ناکامی دیکھی یا مشکلات برداشت کیں۔
آج کل بہت سے influencers اور content creators اپنی زندگی کو اس انداز میں پیش کرتے ہیں کہ دیکھنے والے کو لگتا ہے کہ کامیابی بہت آسان چیز ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہر کامیابی کے پیچھے مسلسل محنت، discipline، patience اور sacrifice ہوتی ہے۔
کسی شخص کی ایک viral ویڈیو یا ایک کامیاب تصویر کے پیچھے شاید کئی سال کی محنت چھپی ہوتی ہے۔ لیکن سوشل میڈیا صرف چند سیکنڈ کا result دکھاتا ہے، journey نہیں دکھاتا۔
اسی لیے دوسروں کی زندگی دیکھ کر اپنی زندگی سے نفرت کرنا بہت بڑی غلطی ہے۔
ہر انسان کا وقت الگ ہوتا ہے۔ کوئی جلد کامیاب ہو جاتا ہے اور کوئی دیر سے، لیکن دیر سے ملنے والی کامیابی بھی کامیابی ہی ہوتی ہے۔ اپنی رفتار سے چلنا غلط نہیں۔ اصل غلطی یہ ہے کہ انسان دوسروں کو دیکھ کر خود کو ناکام سمجھنا شروع کر دے۔
جب خواہش انسان کو غلط راستوں کی طرف لے جائے
یہ comparison بعض اوقات نوجوانوں کو خطرناک راستوں کی طرف بھی لے جاتا ہے۔
جب ایک نوجوان یہ سوچ لیتا ہے کہ “میرے پاس کچھ نہیں” تو پھر اس کے ذہن میں صرف ایک چیز رہ جاتی ہے:
اور پھر وہ یہ نہیں دیکھتا کہ راستہ حلال ہے یا حرام۔
وہ online scams، fraud، غلط earning methods یا دوسرے ناجائز راستوں کی طرف بھی جا سکتا ہے، کیونکہ اس کی سوچ صرف result تک محدود ہو چکی ہوتی ہے۔
آج سوشل میڈیا پر بہت سی fake success stories بھی موجود ہیں۔ کچھ لوگ دوسروں کو متاثر کرنے کے لیے جھوٹی امارت دکھاتے ہیں۔ بعض لوگ ناجائز طریقوں سے پیسہ کما کر luxury lifestyle دکھاتے ہیں، لیکن نوجوان صرف ان کی چمک دیکھتے ہیں، انجام نہیں دیکھتے۔
اصل میں وہ غلط کام نہیں چاہ رہا ہوتا، وہ صرف وہ زندگی چاہ رہا ہوتا ہے جو اس نے سوشل میڈیا پر دیکھی ہوتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ نوجوانوں کو یہ سمجھانا بہت ضروری ہے کہ وقتی چمک ہمیشہ کامیابی نہیں ہوتی۔ حرام طریقے سے حاصل کی گئی آسائش وقتی خوشی تو دے سکتی ہے، لیکن سکون نہیں دے سکتی۔ جبکہ حلال محنت سے حاصل ہونے والی چھوٹی کامیابی بھی انسان کو اندرونی اطمینان دیتی ہے۔
والدین اور اساتذہ کی ذمہ داری
میری نظر میں اس مسئلے کا سب سے اہم حل guidance ہے۔
والدین اور اساتذہ کو چاہیے کہ وہ نوجوانوں کو یہ سمجھائیں کہ:
آج نوجوانوں کو صرف تعلیم نہیں بلکہ emotional guidance کی بھی ضرورت ہے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کے ساتھ وقت گزاریں، ان کی باتیں سنیں اور ان کے ذہنی دباؤ کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ اسی طرح اساتذہ کو بھی چاہیے کہ وہ نوجوانوں میں confidence پیدا کریں اور انہیں یہ احساس دلائیں کہ ہر انسان اپنی جگہ unique ہوتا ہے۔
اگر بچوں کو صحیح وقت پر صحیح سوچ دے دی جائے تو وہ احساسِ کمتری کے بجائے motivation لینا سیکھ جائیں گے۔
انہیں یہ سکھانا ضروری ہے کہ دوسروں کی کامیابی سے جلنے کے بجائے inspire ہونا چاہیے۔ اگر کوئی شخص کامیاب ہے تو اس سے نفرت کرنے کے بجائے یہ سوچنا چاہیے کہ “میں بھی محنت سے اپنی زندگی بہتر بنا سکتا ہوں۔”
نوجوان کیا کریں؟
اگر آپ ایک نوجوان ہیں اور سوشل میڈیا دیکھ کر کبھی خود کو کم محسوس کرتے ہیں تو ایک بات ہمیشہ یاد رکھیں:
کسی کی کامیابی دیکھ کر خود کو ناکام مت سمجھیں۔
اگر کسی کے پاس اچھی گاڑی ہے تو یہ سوچیں:
“ان شاء اللہ، میں بھی محنت کروں گا، حلال طریقے سے grow کروں گا اور ایک دن اپنی خواہشات پوری کروں گا۔”
خواہش رکھنا غلط نہیں، لیکن اپنی زندگی سے نفرت کرنا غلط ہے۔
اپنے والدین کی قدر کریں۔
اپنی موجودہ زندگی کی قدر کریں۔
اور دوسروں کی چمکتی ہوئی تصویروں کو اپنی حقیقت پر حاوی مت ہونے دیں۔
اپنی زندگی کے مثبت پہلوؤں پر توجہ دیں۔ اپنی skills بہتر بنائیں، اپنی تعلیم پر focus کریں، نئی چیزیں سیکھیں اور خود کو بہتر انسان بنانے کی کوشش کریں۔ یاد رکھیں کہ اصل ترقی صرف پیسہ کمانا نہیں بلکہ ایک اچھی شخصیت بنانا بھی ہے۔
یہ بھی ضروری ہے کہ سوشل میڈیا کا استعمال محدود رکھا جائے۔ ہر وقت دوسروں کی زندگی دیکھتے رہنا انسان کو ذہنی طور پر تھکا دیتا ہے۔ کبھی کبھی موبائل سے دور رہنا، family کے ساتھ وقت گزارنا، نماز، دعا اور self-improvement پر توجہ دینا انسان کو اندرونی سکون دیتا ہے۔
آخری بات
سوشل میڈیا پر نظر آنے والی ہر چیز حقیقت نہیں ہوتی۔
اس لیے دوسروں کی lifestyle دیکھ کر خود کو کمتر مت سمجھیں۔
اپنی رفتار سے چلیں، اپنی محنت پر یقین رکھیں، اور یاد رکھیں:
زندگی کوئی race نہیں جہاں ہر انسان کو ایک ہی وقت میں کامیاب ہونا ہو۔ اللہ ہر انسان کو اس کے وقت کے مطابق دیتا ہے۔ بعض اوقات دیر سے ملنے والی چیز انسان کے لیے زیادہ بہتر ہوتی ہے۔ اس لیے دوسروں کی چمک دمک دیکھ کر اپنی نعمتوں کو حقیر مت سمجھیں۔
اپنی زندگی، اپنے والدین، اپنی محنت اور اپنے سفر کی قدر کریں۔ کیونکہ اصل کامیابی صرف دولت نہیں بلکہ دل کا سکون، اچھا کردار اور حلال طریقے سے حاصل کی گئی عزت ہے۔

.jpg)
